Shaikh Mahmood Afandi Guzar Gayi

آہ شیخ محمود آفندی نقشبندی داغ مفارقت دے گئے رحمۃ اللّٰہ علیہ رحمۃ واسعۃ _ اس خبر سے وہی رنجیدہ ہوگا جو کچھ نہ کچھ حضرت سے واقف ہوگا __ جس طرح ہم سلسلہ نقشبندیہ میں دور حاضر میں محبوب العلماء و الصلحاء پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی أطال اللہ عمرہ سے واقف ہیں اسی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آفندی ہیں ، بس یہ دو شخصیتیں سلسلہ نقشبندیہ میں آفتاب و ماہتاب کی طرح ہیں جن میں سے ایک ہم سے رخصت ہو گئے ۔ مزید جانتے ہیں استاد محترم مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب کی کتاب ” ترک ناداں سے ترک دانا تک “
ملاحظہ ہو !!!

Ah Shaykh Mahmood Affandi Naqshbandi stains have been given away (may Allah have mercy on him). Only those who are somewhat familiar with this news will be saddened by this news. They are familiar with Umrah. Similarly, there is Hazrat Affandi in Naqshbandiyya series. These two personalities are like Aftab and Mahtab in Naqshbandiyya series. One of them has passed away. Know more about the book “From the ignorant to the wise” by the respected teacher Mufti Abu Lababa Shah Mansoor

ترکیہ میں بھی جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو کچھ علماء نے چھپ چھپ کر اور درختوں کے نیچے دیہات اور گاؤں میں وہاں کے بچوں کو دینی تعلیم دینی شروع کی,

Even in Turkey, when the Ottoman Caliphate was overthrown, some of the ulema secretly began teaching the children in the villages and hamlets under the trees.

جب وہاں کے لوگ فوج کو آتے دیکھتے تو فورا بچے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاتے
یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ بچے کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رہے بلکہ کھیتی باڑی میں مشغول ہیں,
ان طالبعلم بچوں میں ” شیخ محمود آفندی نقشبندی صاحب ” بھی شامل تھے،حضرت نے یوں دینی تعلیم کی تکمیل کی اور فراغت کے بعد یہی سلسلہ اپنے گاؤں جاری رکھا لیکن اسی دوران حضرت آفندی کے دو خلفاء شہید کیے گیے تو حالات کے تناظر میں حضرت آفندی نے وہاں سے شہر کا رخ کیا جہاں ایک قدیم مسجد تھی،وہاں رہتے ہوئے حضرت نے چالیس سال تک دین کی تدریس کا کام جاری رکھا۔

When the people there saw the army coming, the children would immediately engage in farming
It seemed that these children were not getting any education but were engaged in farming.
These students included “Sheikh Mahmood Affandi Naqshbandi Sahib”. Hazrat completed his religious education and after graduation he continued the same process in his village but at the same time two caliphs of Hazrat Affandi were martyred. Affandi moved from there to the city where there was an ancient mosque. While living there, Hazrat continued teaching religion for forty years.

تقریبا اٹھارہ سال تک حضرت آفندی کے پیچھے کوئی نماز پڑھنے کیلئے تیار نہیں تھا اٹھارہ سال کے بعد آہستہ آہستہ لوگ آنے لگے اور حضرت آفندی سے فیضیاب ہوتے گئے,
آج جب اسی مسجد میں اذان ہوتی ہے تو جوق درجوق لوگ نماز کیلئے اس مسجد میں آنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں,جو حضرت آفندی جیسے علماء کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے

For about eighteen years no one was ready to offer prayers behind Hazrat Effendi.
Today, when the call to prayer is made in this mosque, many people consider coming to this mosque for prayers as a source of happiness, which is the result of hard work and sincerity of scholars like Hazrat Affandi.

حضرت آفندی کی زندگی کا جب میں نے مطالعہ کیا تو ایک عجیب واقعہ میرے آنکھوں کے سامنے گزرا
ترکیہ سے جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو وہاں کے بانی کمال اتا ترک نے عربی کتب اور دینی علوم پر مکمل پابندی لگادی،اس وقت حضرت مولانا شیخ محمود آفندی نقشبندی نے اپنے طلبہ کو انگلیوں کے اشاروں پر صرف اور نحو کے گردان پڑھائی ، حج اور نماز کے مسئلے بھی ہاتھوں کے اشاروں سے سمجھائے اللہ تعالی نے حضرت آفندی کے ہاتھوں پر مکمل دینی نصاب رکھ دیا تھا
اتنی مشقتوں اور تکالیف کے بعد اب ترکیہ میں بہت بہترین اور آسان طریقے سے دینی تعلیم پڑھائے جاتے ہیں,
باحوالہ ( ترک نادان سے ترک دانا تک ) استاد محترم مصنف مفتی ابولبابہ شاہ منصور حفظہ اللہ

When I studied the life of Hazrat Affandi, a strange event happened before my eyes
When the Ottoman Caliphate was abolished from Turkey, its founder, Kamal Ataturk, imposed a complete ban on Arabic books and religious studies. Explain the issues of Hajj and prayers with hand gestures.
After so much hardship and suffering, religious education is now taught in the best and easiest way in Turkey.
Reference (from the ignorant Turk to the wise Turk) Respected author Mufti Abul Baba Shah Mansoor

حضرت شیخ محمود آفندی کا جو عقیدہ ہے وہی عقیدہ حضرت آفندی سے اصلاحی تعلق ہونے کی وجہ سے ” رجب طیّب اردوغان ” کا بھی ہے,
ہمارے حضرات اور شیخ آفندی کا آپس میں گہرا روحانی اور نیازمندانہ تعلق ہے حتی کہ انہوں نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمة اللّٰه علیہ کو چودھویں صدی کا مجدد بھی قرار دیا ہے,
حضرت آفندی کے مؤلفات میں سے سب سے بڑی اور بابرکت تألیف اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ترکش زبان میں تفسیر “روح الفرقان” ہے

The same belief of Hazrat Sheikh Mahmoud Affandi is also the belief of “Recep Tayyip Erdogan” due to his corrective relationship with Hazrat Affandi.
Our gentlemen and Sheikh Affandi have a deep spiritual and self-sacrificing relationship.
One of the greatest and most blessed works of Hazrat Effendi is the commentary “Ruh-ul-Furqan” in Turkish language consisting of 18 volumes.

جسکی چوتھی جلد کے صفحہ 724 پر انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللّٰه علیہ کو شیخ المشائخ اور مولانا زکریا کاندھلوی رحمة اللّٰه علیہ کو امام, محدّث اور علامہ لکھا,
2013 میں شیخ الاسلام حضرت شیخ محمود آفندی نقشبندی صاحب کو “امام محمد قاسم نانوتوی رحمة اللّٰه علیہ ایوارڈ ” سے بھی نوازا گیا۔
چنانچہ الشیخ محمود آفندی نقشبندی کا آج بتاریخ (2022-6-23) تقریباً (95) سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

On page 724 of the fourth volume of which he wrote Maulana Ashraf Ali Thanwi (may Allah have mercy on him) as Shaykh-ul-Mashaikh and Maulana Zakaria Kandhalvi (may Allah have mercy on him) as Imam, Muhaddith and Allama.
In 2013, Shaykh-ul-Islam Hazrat Shaykh Mahmood Affandi Naqshbandi Sahib was also awarded “Imam Muhammad Qasim Nanotavi Rahmatullah Alayh Award”.
Therefore, Sheikh Mahmood Affandi Naqshbandi passed away today (2022-6-23) at the age of almost 95 years.

انا للّہ وانا الیہ راجعون
اللہ انکی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں اور انکے جانے سے جو خلا پیدا ہوا اللہ اسکو پر فرمائیں

To Allah we belong and to Him we shall return
May Allah send millions of blessings on their graves and may Allah bless the void created by their departure

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: